zahidakhtar5048 zahidakhtar5048

272 posts   152 followers   91 followings

Zahid Akhtar 

جفا ہی جب تری پہچان ٹھہری
وفا میں مجھ کو لذت کس لئے ہے

💠 *لباس کی تبدیلی اور ڈی پی تبدیل کرنا محرم کا استقبال نہیں کہلاتا—*
محرم کا بہترین استقبال یہ ہے کہ چاند نظر آتے ہی مظلوم کربلا سے وعدہ کریں کہ
🙏مولا میں آج سے ہر حرام کام ترک کرتا/کرتی ہوں اور واجبات کی ادائیگی کا آپ سے وعدہ کرتا /کرتی ہوں
🙏محرم یعنی انقلاب اپنی عملی زندگی میں اپنی عادات میں اپنے لب و لہجے میں اپنی گفتار میں،
*جس سال کا آغاز ہو نام حسین سے* *کیونکر وہ گزرے برائیوں کے حصار میں*

سب سے تلخ حقیقت ۔۔ موت ۔۔ ابھی انسان دنیا میں بھی نہیں آتا کہ اوپر بلندیوں میں محفوظ ۔ ایک لوح محفوظ پر اس کی زندگی لکھ دی جاتی ہے ۔۔ اتنے سال ۔ اتنے مہینے ۔اتنے گھنٹے اتنے منٹ اتنے سیکنڈ ۔۔ نہ اس سے ذرہ برابر کم ۔۔ نہ زیادہ ۔۔موت کب کیوں اور کیسے کہ عوامل کو نہیں دیکھتی ۔۔بس آ جاتی ہے ۔ جب اوپر کن کہا جاتا یے ۔۔ نیچے فیکون ہو جاتا ہے ۔۔ اتنی با خبر ہے اللہ کی ذات ہر انسان سے ۔۔۔۔۔ اور انسان کیا کہتا ہے ؟
کہ اللہ ہمیں بھول گیا ہے ۔۔ !

میں چاہتا ہوں ''"""" کوئی لفظ """ کوئی مصرعہ "" """کوئی نظم "" کوئی غزل """ مجھ سے کچھ ایسے ادا ہو جائے '""""""""""""
میں چاہتا ہوں """
کہ وہ اک دلربا من موہنی سی الہڑ لڑکی "" اب میری شاعری پر فدا ہو جائے '"""""" 💓 💓

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ھو جانا
کیا غضب کام ھے راضی بہ رضا ھو جانا

بے نیازی بھی وھی اور تعلق بھی وھی
تمہیں آتا ھے محبت میں خُدا ھو جانا

میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو
بن گئے شام محبت کے ستارے آنسو

دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پیارے آنسو
میری آنکھو ں میں نہ آجائیں تمہارے آنسو

اپنا منہ میرے گریباں میں چھپاتی کیوں ہو؟
دل کی دھڑکن کہیں سن لیں نہ تمہارے آنسو

شمع کا عکس جھلکتا ہے جو ہر آنسو میں
بن گئے بھیگی ہوئی رات کے تارے آنسو

مینہ کی بوندوں کیطرح ہوگئے سستےکیوں آج؟
موتیوں سے کہیں مہنگے تھے تمہارے آنسو

صاف اقرار محبت ہو زباں سے کیوں کر
آنکھ میں آگئے یوں شرم کے مارے آنسو

ہجر، ابھی دُور ہے، میں پاس ہوں، اے جان وفا
کیوں ہوئے جاتے ہیں بے چین تمہارے آنسو

صبح دم دیکھ نہ لے کوئی یہ بھیگا آنچل
میری چغلی کہیں کھا دیں نہ تمہارے آنسو

اپنے دامان و گریباں کو میں کیوں پیش کروں
ہیں مرے عشق کا انعام تمہارے آنسو

دم رخصت ہے قریب، اےغم فرقت !خوش ہو
کرنے والے ہیں جدائی کے اشارے آنسو

صدقے اس جان محبت کے میں اختر جس کے
رات بھر بہتے رہے شوق کے مارے آنسو

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
شاید تمھیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر
شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو
کیا جانے پھر ستم بھی میسّر ہو یا نہ ہو
کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو
اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنّا نہ کر سکو

چلو وہ عشق نہیں، چاہنے کی عادت ہے
پہ کیا کریں ہمیں‌ اک دوسرے کی عادت ہے
تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں‌ مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے
میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے
ترے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے
وصال میں‌ بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے
یہ مشکلیں ہیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے
یہ خود اذیتی کب تک ، فراز تو بھی اُسے
نہ یاد کر ، کہ جسے بھولنے کی عادت ہے
(احمد فراز)

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے
بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں
پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے
پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں
کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیں
گھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں
داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔ کچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں
احمد فراز

آ بسے جلوے مری آنکھ میں سب محشر کے
پر سدھرتے ہی نہیں طور دلِ مضطر کے
لوگ ظاہر کی ہی فکروں میں گھلے جاتے ہیں
کس نے دیکھے ہیں یہاں روگ مرے اندر کے
نہ کوئی آس ، نہ امید ، دلاسہ باقی
بدلے بدلے سے ہیں انداز مرے مخبر کے
جو بھی آتا ہے وہ ناکام پلٹ جاتا ہے
گھر نہیں جاتے ہیں اب راستے میرے گھر کے
کوئی آئے تو بجھا دیتا ہوں دیپک سارے
یوں چھپاتا ہوں اندھیروں میں اندھیرے گھر کے
کیسے ناداں ہیں جو کہتے ہیں محبت اس کو
کچھ بھی جچتا نہیں پھر بعد میں جس منظر کے
ایسا بھٹکا تھا میں اک بار نہ واپس آیا
اب نکلتا ہی نہیں میں کبھی گھر سے ڈر کے
یوں تو مٹی کے ہیں سب لوگ جہاں فانی میں بس مرے واسطے بن جاتے ہیں سب پتھر کے
دیکھتا ہوں میں قیامت کا بھی روشن پہلو
چلو دیکھیں گے وہاں پھر سے انہیں جی بھر کے
رات اور دن کا گزرنا نہیں جینا ابرک
جینا ان کا ہے جو زندہ ہیں یہاں پر مر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک

میری شاعری کے نصیب میں،
کہاں لفظ تیرے معیار کے________!!!

دونوں طرف کا شور برابر سنائی دے
دونوں طرف کسی کو کسی کی خبر نہ ہو

Most Popular Instagram Hashtags