stylishdilyas stylishdilyas

14,211 posts   106,405 followers   88 followings

Muhammad Ilyas محسن القاسم  امر بالمعروف و نہی عن المنکر 👉 spread Follow @stylishdilyas and get AUTHENTIC" Islamic Post in Your Instagram Newsfeed Share this profile with other

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بُرائی کرنے والے کی اصلاح کرنا چاہتے یا بُرائی کے خاتمہ کے لئے دیگر لوگوں سے اس کا تذکرہ کرتے یا غلط اور نا پسند کام ہوتا دیکھتے توتعین کر کے یا اس شخص کا نام لے کراصلاح نہیں فرماتے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرماتے تھے
’’ فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے ؟ ‘‘
یا
’’ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو فلاں فلاں بات کہتے ہیں ؟ ‘‘)
(سنن أبي داود : 4788)
یا ’’ فلاں فلاں کام کرتے ہیں ؟ ‘‘ ( إحياء علوم الدين : 1753/4 (2759))
یا ’’ فلاں کام کرنے والے کو کیا ہو گیا ہے ؟ ‘‘ (صحیح البخاري : 7174 )
یا ’’ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ ‘‘ (صحیح البخاري : 2563)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا (مفہوم)
----- میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان مبارک کے قریب اپنا منہ کیا ہوا ہو (رازداری کی کسی بات کے لئے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک ہٹا لیا ہو جب تک کہ خود وہی شخص اپنا منہ پیچھے نہ ہٹا لیتا
اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبارک پکڑا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہاتھ چھڑالیا ہو جب تک کہ خود وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبارک نہ چھوڑ دیتا
-----
(سنن أبي داود :4794(حسن)، ،مسند أبي يعلى الموصلي :187/6(3471))

‏لوگ بدل جائینگے ، توقعات و خواہشات کا شیش محل بیچ چوراہے پر ٹوٹ جائیگا اور زندگی گمان سے بھی عجیب تر سلوک کرے گی لیکن آپکے معاملات اگر اللہ کیساتھ ٹھیک ہیں تو پھر سب خیر ہے۔

السَّلَام َعَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
استغفار کی فضیلت

الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد ﷺ،وعلی آلہ وصحبہ ومن دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔أما بعد
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ لَااِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ))[غافر:۳]
’’اللہ تعالیٰ گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول فرمانے والاسخت عذاب والا انعام و قدرت والاہے،اس کے سوا کوئی معبودنہیں اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا:
((فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَاْلاِبْکَارِ))[غافر:۵۵]
’’پس اے نبی! توصبرکر اللہ کا وعدہ بلاشک وشبہ سچا ہی ہے،تو اپنے گناہ کی معافی مانگتا رہ اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا رہ۔ ‘‘
تیسری جگہ فرمایا:
((وَاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْراً رَّحِیْماً))[النسائ:۱۰۶]
’’اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو!بے شک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا ،مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
چوتھی جگہ فرمایا:
((فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّاباً))[النصر:۳]
’’تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ،بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یہ عظیم الشان آیات استغفار اور اس پر مداومت کی دعوت دیتی ہیں۔
ان عظیم الشان آیات پر لبیک کہتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ان پر عمل کرنا شروع کر دیا۔حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنھاسے روایت ہے کہ سورت نصرمیں ((فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّاباً))کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ اپنی ہر نماز میں’’سبحانک اللھم وبحمدک، اللھم اغفرلی‘‘پڑھا کرتے تھے۔[بخاری]
اور قرآن پر عمل کرتے ہوئے اپنے رکوع اور سجود میں کثرت سے’’سبحانک اللھم وبحمدک، اللھم اغفرلی‘‘ پڑھتے تھے۔[مسلم]
نبی کریم ﷺ نے صرف اسی پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے تھے ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردیا تھا اور وہ معصوم عن الخطا تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو ایک ہی مجلس میں سو مرتبہ’’أستغفر اللّٰہ الذی لاالہ الا ھو الحی القیوم وأتوب الیہ‘‘کہتے ہوئے سنا۔[نسائی]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کس کثرت اور مداومت سے استغفار کیا کرتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا
کہ اُس کے بال بکھرے بکھرے سے تھے ،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا اِسے کوئی چیز (تیل ، کنگھی وغیرہ) نہیں ملتی
کہ اس سے اپنے بالوں کو سنوار لے؟“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے
آدمی کو دیکھا جس کے کپڑے میلے ہو رہے
تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”کیا اِسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ اس سے اپنے کپڑے دھو لے؟“
!!!!!!
(سنن أبي داود : 4062 ، ، سلسلة الأحاديث الصحيحة : 493 ، ،
صحيح ابن حبان : 5483 ، ، غاية المرام : 74 ، ،
مشكاة المصابيح : 4277)

Most Popular Instagram Hashtags